فهرس الكتاب

الصفحة 2798 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

کیا قربانی کے جانور کو قلادہ ڈالنا احرام کا موجب ہے؟

2798 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْرَجُ بِالْهَدْيِ مُقَلَّدًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقِيمٌ مَا يَمْتَنِعُ مِنْ نِسَائِهِ

حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں: بلا شبہ میں رسول اللہﷺ کے قربانی کے حرم جانے والے جانوروں کے قلادے خود بٹا کرتی تھی، پھر انھیں قلادے ڈال کر حرم کی طرف روانہ کیا جاتا جبکہ رسول اللہﷺ (مدینہ منورہ ہی میں) مقیم رہتے تھے اور اپنی عورتوں (کے ساتھ جماع) سے پرہیز نہیں فرماتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت