فهرس الكتاب

الصفحة 2882 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

حرم کی حرمت کا بیان

2882 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصِّيصِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ عَنْ الدَّالَانِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَخِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ جُنْدٌ إِلَى هَذَا الْحَرَمِ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنْ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ قَالَ تَكُونُ لَهُمْ قُبُورًا

حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''ایک لشکر حرم بیت اللہ کی طرف بھیجا جائے گا۔ جب وہ مقام بیداء (ایک چٹیل اور بنجر میدان) میں پہنچیں گے تو ان کے اول وآخر کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔'' میں نے عرض کیا: اگر ان میں کوئی مومن بھی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ''یہ علاقہ ان کے لیے بھی (قیامت تک کے لیے) قبرستان بن جائے گا۔ (اور کافروں کے لیے عذاب) ۔''

(۱) درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔'' یعنی اول وآخر سے مراد سب کے سب ہیں، نہ کہ دو کنارے۔ (۲) ''قبرستان بن جائے گا۔'' یعنی ہلاک تو مومن بھی ہو جائیں گے مگر انھیں عذاب نہیں ہوگا اور قیامت کے دن وہ ظاہرًا بھی کافروں سے الگ کر لیے جائیں گے۔ (۳) یہ روایت شواہد کی بنا پر صحیح ہے جیسا کہ محقق کتاب نے بھی سندًا ضعیف قرار دیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ آئندہ آنے والی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت