کتاب: مواقیت کا بیان
2907 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: '' (قیامت کے قریب) دو چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی بیت اللہ (کعبے) کو ڈھائے گا۔''
شاید یہ وہ وقت ہوگا جب زمین پر کوئی اللہ اللہ کرنے والا نہ رہے گا اور سب لوگ کافر و فاجر ہوں گے۔ کیونکہ قیامت ایسے ہی لوگوں پر قائم ہوگی۔ کعبے کی (خاکم بدہن) تباہی اس دنیا کی تباہی کا الارم ہوگا۔ قرآن مجید میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے:
{جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَ الْہَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ} (المآئدۃ: ۹۷)
گویا بیت اللہ کی حرمت، زیارت اور حج دنیا کی بقا کا ذریعہ ہے۔