فهرس الكتاب

الصفحة 2936 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

قران کرنے والا کتنے طواف کرے گا؟

2936 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى وَإِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ فَسَارَ قَلِيلًا فَخَشِيَ أَنْ يُصَدَّ عَنْ الْبَيْتِ فَقَالَ إِنْ صُدِدْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاللَّهِ مَا سَبِيلُ الْحَجِّ إِلَّا سَبِيلُ الْعُمْرَةِ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا فَسَارَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَاشْتَرَى مِنْهَا هَدْيًا ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ

حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے لیے) نکلے۔ جب ذوالحلیفہ میں پہنچے تو عمرے کا احرام باندھا۔ تھوڑی دور چلے تو انھیں خطرہ ہوا کہ کہیں بیت اللہ سے روک نہ دیے جائیں، پھر فرمانے لگے: اگر مجھے روک دیا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جس طرح رسول اللہﷺ نے (ایسے موقع پر) کیا تھا، پھر فرمانے لگے: واللہ! اس مسئلے میں حج اور عمرہ برابر ہی ہیں۔ میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لیا ہے، پھر چلتے رہے حتیٰ کہ جب مقام قدید میں پہنچے تو وہاں سے قربانی کا جانور خریدا، پھر مکے پہنچے تو بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔

تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث نمبر ۲۷۴۷۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت