کتاب: مواقیت کا بیان
3002 أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَرَفَاتٍ فَمِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ عرفات گئے۔ ہم میں سے کوئی لبیک کہتا تھا اور کوئی تکبیریں کہتا تھا۔
منیٰ سے ۹ ذوالحجہ کو طلوع شمس کے بعد عرفات کی طرف کوچ کیا جاتا ہے اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔ جاتے ہوئے لبیک کہنا بھی جائز ہے اورتکبیریں کہنا بھی، مگر اصل لبیک ہے، یعنی لبیک کثرت سے کہی جائے۔ درمیان میں تکبیریں بھی پڑھتے رہیں۔ لبیک کا سلسلہ یوم نحر کو جمرۂ عقبہ کی رمی تک جاری رہے گا۔