فهرس الكتاب

الصفحة 3020 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

عرفات میں وقوف فرض ہے

3020 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے۔ آپ دونوں ہاتھ اٹھائے دعا فرما رہے تھے کہ آپ کی اونٹنی بدک گئی۔ آپ کے ہاتھ مبارک آپ کے سر سے اونچے نہیں ہوتے تھے۔ آپ اسی حالت میں چلتے رہے حتی کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔

حج کا سارا سفر سکون سے ہونا چاہیے، نہ کسی کو پکارا جائے نہ راستہ مانگا جائے اور نہ جانور کو تیز کیا جائے، بلکہ جانور کو مارنا بھی منع ہے۔ اور دوران سفر دعا اور ذکر واذکار پر توجہ دینی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت