کتاب: مواقیت کا بیان
3064 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ عَامِي هَذَا
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اونٹ پر سوار جمرہ کو رمی کرتے دیکھا۔ آپ فرما رہے تھے: ''اے لوگو! مجھ سے حج کی عبادات کے طریقے سیکھ لو۔ شاید میں اس سال کے بعد حج نہ کر سکوں۔''
''شاید'' دراصل آپ کو بہت سے قرائن کی بنا پر معلوم ہو چکا تھا کہ یہ میری دنیوی زندگی کا آخری سال ہے اور اسے آپ نے اشارات وکنایات میں لوگوں پر ظاہر بھی کر دیا تھا۔ مندرجہ بالا جملہ بھی اسی بات کا اظہار ہے۔ حج نہ کر سکنے کا مطلب بھی وفات ہی ہے۔ ''شاید'' کا لفظ پیغمبرانہ شان ہے کہ باوجود یقین کے امکان ظاہر کیا کیونکہ ایسے معاملات بہر صورت اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہیں۔ صرف تین ماہ بعد پیارے رسول اللہﷺ اپنے مولا و رفیق اعلیٰ کو پیارے ہوگئے۔ فداہ نفسی وروحی وابی وامیﷺ