فهرس الكتاب

الصفحة 3080 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

جمروں کو کتنی کتنی کنکریاں ماری جائیں گی؟

3080 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ يَقُولُ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ فَقَالَ مَا أَدْرِي رَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ

حضرت ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ میںنے حضرت بن عباس رضی اللہ عنہ سے جمروں کے بارے میں پوچھا تو وہ فرمانے لگے: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہﷺ نے انھیں سات سات کنکریاں ماریں یا چھ چھ۔

کنکریاں تو سات ہی ماری جاتی ہیں جیسا کہ احادیث میں صراحتًا ذکر ہے۔ ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر غلطی یا بھول چوک سے چھ کنکریاں ہی ماری جائیں یا رش وغیرہ کی بنا پر ایک آدھ کنکری رہ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ شریعت نے بہت سے مسائل میں اکثر کو کل کا حکم دیا ہے، البتہ جان بوجھ کر کمی بیشی جائز نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت