3122 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: ''تین شخص ایسے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کی مد کرنا اللہ تعالیٰ پر ضروری ہے: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا' وہ نکاح کرنے والا جو گناہ سے بچنا چاہتا ہے اور وہ غلام ج سنے اپنے مالک سے آزادی کا معاہدہ کررکھا ہے اور اس کی نیت معاہدہ پورا کرنے کی ہے۔''
: (1) ''ضروری ہے' ' اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کی مدد نہ کرے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ تو کمال رحمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی اور اختیار سے کچھ باتوں کو اپنے لیے ضروری قرار دے لیا ہے۔ (2) مالک کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ اپنے غلام میں کمائی کی صلاحیت دیکھے تو رقم طے کر کے اس سے آزادی کا معاہدہ کرے اور پھر اسے کمائی کے لیے کھلا چھوڑ دے۔ جب وہ مقرر معاہدے کے مطابق رقم ادا کردے تو اسے آزاد کردے' خصوصًا جب کہ غلام خود ایسے معاہدے کی درخواست کرے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا حکم دیا {وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمٰنُکُمْ فَکَاتِبُوْھُمْ} (النور۲۴:۳۳) ''اور تمہارے جو لونڈی غلام مکاتب کرنا (آزادی کی تحریر لکھنا) چاہیں تو تم انہیں لکھ کر دے دو۔''