فهرس الكتاب
3126 أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ وَتَوَكَّلَ اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ بِأَنْ يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يُرْجِعَهُ سَالِمًا بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: ''اللہ تعالیٰ کی راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو مسلسل قیام وصیام میں مشغول رہے۔ ویسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کون اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے (اور کون دنیوی اغراض کے لیے) ۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے ضامن ہے کہ اسے فوت کرے گا تو جنت میں داخل کرے گا یا اسے صحیح سالم اجروغنیمت سمیت اس کے گھر واپس لوٹائے گا۔''
''اللہ ہی جانتا ہے'' کیونکہ نیت مخفی چیز ہے۔ لوگ تو ظاہر دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دل کو بھی دیکھتا ہے۔ فضیلت اسی کو حاصل ہوگی جو خالصتًا لوجہ اللہ جہاد کو جاتا ہے۔ اگر کوئی اور آلائش اس میں داخل ہوگئی تو یہ جہاد بجائے جنت کے جہنم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔