فهرس الكتاب

الصفحة 3165 من 5761

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل

شہادت مانگنے کا بیان

3165 أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ مَنْ قُبِضَ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ فَهُوَ شَهِيدٌ الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالْمَطْعُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالنُّفَسَاءُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''پانچ حالتیں ایسی ہیں کہ جو شخص بھی ان میں فوت ہو وہ شہید ہوگا: جو شخص اللہ تعالیٰ کے راسے میں مارا جائے' وہ شہید ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں غرق ہو' وہ شہید ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے راسے میں پیٹ کی تکلیف سے مر جائے' وہ شہید ہے۔ اور جو عورت اللہ تعالیٰ کے راستے میں زچگی سے مرجائے' وہ بھی شہید ہے۔''

اس روایت میں ہر شہید کے لیے فی سبیل اللّٰہ کی قید لگائی گئی ہے جب کہ دیگر روایات میں یہ قید ذکر نہیں' س لیے بہتر ہے کہ فی سبیل اللہ کو عام سمجھا جائے' یعنی وہ مسلمان ہ وکیونکہ ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کے راستے کا راہی ہے۔ البتہ حقیقی شہید وہی ہے جو جہاد کرتا ہوا مارا جائے۔ اس کے علاوہ جنہیں شہید کہاگیا ہے' وہ حکمًا شہید ہیں' یعنی ان کی موت انتہائی تکلیف دہ اور ا چانک ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمادے گا۔ اور انہیں شہیدوں والا رتبہ واجر عطا فرمائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت