فهرس الكتاب

الصفحة 3190 من 5761

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل

فی سبیل اللہ صدقہ کرنے کی فضیلت

3190 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنْ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ كَانَ نَوْمُهُ وَنُبْهُهُ أَجْرًا كُلُّهُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا رِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جنگ دو قسم کی ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ کی رضا مندی کا طالب ہو' امام کی اطاعت کرے اور اچھا مال خرچ کرے اور اپنے ساتھی سے نرمی کرے اور فساد سے بچے تو اس کا سونا اور جاگنا سب کا سب ثواب ہوگا۔ لیکن جو شخص دکھلاوے اور شہرت کے لیے جنگ کرے' امام کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد کرے تو وہ اپنی پہلی حالت کے ساتھ بھی واپس نہیں آئے گا۔ (چہ جائیکہ وہکوئی ثواب حاصل کرے) ۔''

دکھلاوے اور شہرت کے لیے لڑائی لڑنا ثواب کے بجائے عذاب کا سبب ہوگا' لہٰذا وہ پہلی حالت سے بھی گاٹے میں رہے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت