فهرس الكتاب
3218 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْمَازِنِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ قَالَتْ فَلَا تَفْعَلْ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً فَلَا تَتَبَتَّلْ
حضرت سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ میں ام المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: میں آپ سے ترک نکاح کا مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ وہ فرمانے لگیں: ایسے نہ کر۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا: {وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا…} '' (اے نبی!) ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے۔ ان سب کی بیویاں اور اولاد تھیں۔'' لہٰذا ترک کا نکاح نہ کر۔
گویا نکاح سنت انبیاء علیہم السلام ہے۔ وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنیِّیْ (آئندہ حدیث) ۔ انبیاء علیہم السلام کے متفقہ طریق کار کو چھوڑنا واضح گمراہی ہے اور انبیاء سے قطع تعلقی ہے۔