فهرس الكتاب

الصفحة 3249 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

جب کوئی آدمی دوسرے آد می سے کسی عورت کے بارے میں مشورہ لے تو کیا وہ معلوم خوبیاں اور عیوب بیان کرسکتا ہے؟

3249 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک (انصاری) عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کیا تو نبیﷺ سے نکاح کی پیش کش کرنے کا بیان کا ارادہ کیا تو نبیﷺ نے فرمایا: ''اسے دیکھ لینا' کیونکہ انصار کی آنکھوں میں خرابی ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت