فهرس الكتاب

الصفحة 3272 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

کنواری لڑکی کا باپ اس کا نکاح کردے جبکہ وہ ناپسند کرتی ہو؟

3272 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''یتیم بچی سے اس کے نکاح کے بارے میں مشورہ کیا جائے۔ اگر وہ چپ رہے تو یہی اس کی اجازت ہے۔ اگر وہ انکار کردے تو اس پر زبردستی نہیں کی جاسکتی۔''

ظاہر ہے یتیم بچی کے اولیء اس کے بھائی یا چچے وغیرہ ہوں گے۔ انہیں زبردستی نکاح کرنے کی اجازت نہیں۔ البتہ باپ کو نابالغ بچی کا نکاح کرنے کی اجازت ہے' مگر بلوغت کے بعد اسے نکاح ختم کرنے یا برقرار رکھنے کا حق ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت