فهرس الكتاب

الصفحة 3308 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

رضاعی بھتیجی سے بھی نکاح حرام ہے

3308 أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ''بلاشبہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور یقینا رضاعت کی بنا پر وہ سب رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی بنا پر حرام ہوتے ہیں۔''

بھتیجی محرمات میں داخل ہے' خواہ حقیقی بھائی کی بیٹی ہو یا رضاعی بھائی کی۔ بہن' بھائی اور ان کی اولاد سے نکاح قطعًا حرام ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت