فهرس الكتاب

الصفحة 3340 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

نکاح شغار کی تفسیر

3340 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْأَزْرَقُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَالشِّغَارُ كَانَ الرَّجُلُ يُزَوِّجُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ أُخْتَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے شغار سے منع فرمایا: راوی عبیداللہ نے کہا: شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح دے اس شرط پر کہ دوسرا اسے اپنی بہن کا نکاح دے گا۔

''اپنی بہن کا'' یہ تو مثال ہے ورنہ کسی کے بھی نکاح کی شرط ہو' بیٹی ہو یا بہن' بھتیجی ہو یا بھانجی وغیرہ' کوئی فرق نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت