فهرس الكتاب

الصفحة 3350 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

مہر مقرر کرنے میں انصاف سے کام لینا

3350 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ الصَّدَاقُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ أَوَاقٍ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ ہم میں تشریف فرما تھے' مہر دس اوقیے ہوتا تھا۔

''دس اوقیے'' اوپر ساڑھے بارہ اوقیے گزرا ہے۔ کسرگرادی گئی ہو یا عمومًا مہر اتنا ہی ہو۔ رسول اللہﷺ کے امتیاز کی وجہ سے آپ کے مہر پانچ صددرہم ہوں۔ دس اوقیے چارسودرہم بنتے ہیں۔ یہ مہر کی مقدار نہیں بلکہ اس دور کے لحاظ سے ان کے معاشرے میں یہ ایک مناسب مہر ہوگا۔ ہر دور کے لحاظ سے اس میں کمی بیشی ہوتی رہے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت