فهرس الكتاب

الصفحة 3366 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

کسی کے لیے شرم گاہ(بغیر نکاح کے)حلال کرنا؟

3366 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ جَارِيَةً لِامْرَأَتِهِ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ مَالِهِ وَعَلَيْهِ الشَّرْوَى لِسَيِّدَتِهَا وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لِسَيِّدَتِهَا وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ

حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرلیا۔ یہ مقدمہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: ''اگر اس شخص نے اس سے جبرًا جماع کیا ہے تو وہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہوجائے گی اور خاوند کو اس اس جیسی لونڈی اس کی مالکہ (یعنی اپنی بیوی) کو دینی ہوگی اور اگر وہ راضی اور خوش تھی تو وہ اپنی مالکہ کی رہے گی۔ اور مرد کو اپنے مال سے ایک اور لونڈی بیوی کو دینی ہوگی۔''

یہ حدیث پہلی حدیث سے کچھ مختلف ہے۔ رضاورغبت کی وجہ سے سابقہ حدیث کی رو سے وہ لونڈی خاوند کی بن جائے گی۔ اور اس حدیث کی رو سے لونڈی ہی کی رہے گی' لیکن چونکہ یہ حدیث اب قابل عمل نہیں' منسوخ ہے' لہٰذا اس میں اختلاف کاکوئی اثر نہ پڑے گا۔ ویسے بھی یہ دونوں روایات بہت سے محبققین کے نزدیک ضعیف ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت