فهرس الكتاب

الصفحة 3441 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

تین طلاق والی عورت کسی نکاح کے ساتھ(پہلے خاوند کے لیے)حلال ہوسکتی ہے؟

3441 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ فَقَالَ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں' پھر اس عورت نے کسی اور آدمی سے نکاح کرلیا لیکن اس نے اسے جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دی۔ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا: کیا وہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ نے فرمایا: ''نہیں' حتیٰ کہ یہ دوسرا خاوند اس سے (جماع کرکے) لطف اندوز ہو جیسا کہ پہلا خاوند لطف اندوز ہوتا رہا۔''

ا س مسئلے کی تفصیل کے لیے دیکھے' حدیث: ۳۲۸۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت