فهرس الكتاب

الصفحة 3443 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

تین طلاق والی عورت کسی نکاح کے ساتھ(پہلے خاوند کے لیے)حلال ہوسکتی ہے؟

3443 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ يُطَلِّقُهَا ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ آخَرُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَتَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ قَالَ لَا حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبیﷺ نے اس آدمی کے بارے میں' جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے' پھر کوئی دوسرا شخص اس سے نکاح کرلیتا ہے لیکن وہ بھی اسے ہم بسری سے پہلے ہی طلاق دے دیتا ہے اور وہ عورت پہلے خاوند کے ہاں واپس جانا چاہتی ہے' فرمایا: ''وہ نہیں جاسکتی حتیٰ کہ دوسرا خاوند اس سے جماع کرے۔''

ا س سے معلوم ہوا کہ دوسرے خاو ند سے صرف نکاح کرلینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ہم بستری ضروری ہے' علاوہ ازیں باقاعدہ آباد ہونے کی نیت سے نکاح کرنا بھی ضروری ہے۔ ان دوشرطوں کے بغیر وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوسکتی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت