3458 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ عَنْ الْحَسَنِ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ عُتِقَا أَيَتَزَوَّجُهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ عَمَّنْ قَالَ أَفْتَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِمَعْمَرٍ الْحَسَنُ هَذَا مَنْ هُوَ لَقَدْ حَمَلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً
بنو نوفل کے مولیٰ حضرت ابوالحسن سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ایک غلام نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں' پھر وہ دونوں آزاد ہوگئے' کیا اب وہ دوبارہ اس سے شادی کرسکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ سائل نے پوچھا: آپ یہ کس سے نقل فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے یہ فتویٰ ارشاد فرمایا ہے۔
عبدالرزاق نے کہا: (عبداللہ) ابن مبارک نے حضرت معمر سے کہا: یہ حسن کون ہے؟ اس نے بہت بھاری پتھر اٹھایا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حدیث قابل عمل نہیں ہوگی' اس لیے انہوں نے اسے ''بھاری پتھر'' قراردیا۔