فهرس الكتاب

الصفحة 3464 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

جو آدمی اپنے دل میں طلاق دیتا رہے؟

3464 أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ بِهِ وَحَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے میری امت کو وسوسے اور دلی خیالات معاف کردیے ہیں جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا زبان پر نہ لائیں۔''

(۱) جن باتوں کا تعلق ہی دل سے ہے' مثلًا اعتقادات' ایمان اور کفر وغیرہ' ان پر مؤاخذہ یا ثواب ہوگا' خواہ وہ دل ہی میں رہیں۔ یہاں صرف وسوسے اور خیالات مراد ہیں جو وقتی طور پر دل میں آتے ہیں اور نکل جاتے ہیں' نہ کہ ایمان وکفر ونفاق وغیرہ جو دل میں جاگزیں ہوتے ہیں۔ (۲) یہ امت محمدیہ کا خاصہ ہے۔ باقی امتوں پر اس کا بھی محاسبہ ہوتا تھا۔ اس سے محمدیہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلاَۃُ وَالتَّسْلِیْمُ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت