فهرس الكتاب

الصفحة 3533 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے' اس کی عدت

3533 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ نَافِعًا يَقُولُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

نبیﷺ کی زوجئہ محترمہ حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ''جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی میت پر رین دن سے زیادہ سوگ کرے' علاوہ خاوند کے کہ اس پر اسے چار مہینے دس دن سوگ کرنا ہوگا۔''

سوگ سے مراد کسی حلال چیز کو چھوڑ دینا ہے' نہ کہ حرام کا ارتکاب کرنا' مثلًا چیخنا چلانا' دوہتڑ مارنا' بین کرنا' بال مونڈنا وغیرہ۔ سوگ تین دن سے زائد مردوں کو بھی منع ہے۔ عورتوں کا ذکر خصوصًا اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سوگ کرتی ہیں۔ مرد عمومًا حوصلہ رکھتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت