جس مستحاضہ عورت کو اپنے حیض کے دن معلوم ہوں'وہ ہر مہینے انھی کو حیض سمجھے
354 أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَأَلَتْ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ قَالَ لَا وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ تِلْكَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي وَصَلِّي
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے بنی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: تحقیق مجھے خون آتا رہتا ہے، اس لیے میں کبھی پاک نہیں ہوتی، تو کیا میں مستقل نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: ''نہیں، بلکہ تم صرف اتنے دن رات نماز چھوڑو جن دنوں میں تمھیں حیض آیا کرتا تھا، پھر غسل کرکے لنگوٹ باندھ لو اور نماز شروع کر دو۔''
دیکھیے، حدیث: ۲۰۹ اور اس کے فوائد و مسائل۔