جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے' اس کی عدت
3552 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينِ بْنِ نُمَيْلَةَ يَمَامِيٌّ قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و أَخْبَرَنِي مَيْمُونُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شَبْرَمَةَ الْكُوفِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ مَا أُنْزِلَتْ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ إِلَّا بَعْدَ آيَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَدْ حَلَّتْ وَاللَّفْظُ لِمَيْمُونٍ
حضرت علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کرسکتا ہوں کہ آیت: {وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ…} ''حمل والی عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ بچہ جن دیں۔'' اس آیت سے بعد اتری ہے جس میں اس عورت کی عدت بیان کی گئی ہے جس کا خاوند فوت ہوگیاہو ' جب اسے بچہ پیدا ہوجائے تو اس کی عدت ختم ہوجاتی ہے۔ یہ الفاظ میمون بن عباس کے ہیں۔
(۱) امام نسائی رحمہ اللہ کے اس حدیث میں دواستاد ہیں: محمد بن مسکین اور میمون بن عباس۔ یہ الفاظ میمون کے ہیں۔ (۲) ''مباہلہ'' یعنی جو جھوٹا' اس پر لعنت۔ گویا ان کو کامل یقین تھا کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے۔