3565 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنْ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ
نبیﷺ کی زوجئہ محترمہ حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ''جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ (عدت کے دوران میں) کسنبے سے رنگا ہوا زرد کپڑا اور مشق (گیرو) سے رنگا ہوا سرخ کپڑا نہ پہنے' نہ وہ مہندی لگائے نہ سرمہ۔''
بعد میں رنگا ہوا کپڑا پہننا منع ہے' خواہ وہ کسی چیز اور کسی رنگ سے رنگا ہوا ہو۔ 'مِشْق'' سرخ مٹی (گیرو) کو کہتے ہیں جس سے وہ کپڑا رنگتے تھے۔ آج کل ہر کپڑا عمومًا بعد ہی میں رنگا جاتا ہے' ا س لیے ایسا کپڑا ملنا مشلک ہے جس کا بننے سے پہلے سوت رنگا گیاہو' لہٰذا آج کل ایسے سادہ کپڑے جن میں عمومًا زیب وزینت کا اظہار نہیں ہوتا' وہ بھڑکیلے' پھول دار اور شوخ رنگ کے نہیں ہوتے' پہننے چاہییں' مثلًا: پرانے کپڑے وغیرہ۔