فهرس الكتاب
وصیت میں تاخیر مکروہ ہے
3643 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمْ الْمَقَابِرَ قَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَإِنَّمَا مَالُكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ
حضرت مطرف اپنے والد محترم (حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ ) سے بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے {اَلْھٰکُمْ التَّکَاثُرُ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرِ} ''تم کو کثرت کی خواہش وطلب نے ( اللہ تعالیٰ اور آخرت سے) غافل رکھا حتی کہ تم نے قبریں دیکھ لیں۔'' کی تفسیر میں بیان فرمایا: ''انسان کہتا ہے: میرا مال' میرا مال' حالانکہ تیرا مال تو وہ ہے جو تو نے کھا کر ختم کردیا یا پہن کر بوسیدہ کردیا صدقہ خیرات کرکے اس کا ثواب جاری کرلیا۔''