فهرس الكتاب

الصفحة 3653 من 5761

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

کیا نبی ﷺ نے کوئی وصیت فرمائی تھی؟

3653 أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهُذَيْلِ وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَا حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْهَمًا وَلَا دِينَارًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَى لَمْ يَذْكُرْ جَعْفَرٌ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کوئی درہم، کوئی دینار، کوئی بکری یا کوئی اونٹ نہیں چھوڑا' اور نہ آپ نے کوئی وصیت ہی فرمائی۔

(روائی حدیث) جعفر بن محمد نے (روایت بیان کرتے ہوئے) دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا۔

امام نسائی رحمہ اللہ یہ روایت اپنے دواساتذہ جعفر بن محمد اور احمد بن یوسف سے بیان کرتے ہیں۔ آخری جملے میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جعفر بن محمد یہ روایت بیان کرتے وقت]دِرْھُمًا وَلاَ دِینَارًا[ کے الفاظ ذکر نہیں کرتے جبکہ احمد بن یوسف ان الفاظ کو نقل کرتے ہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصود صرف دونوں کی روایت کا فرق بتانا ہے' اس سے روایت کی صحت پر کچھ اثر نہیں پڑتا' نیز امام نسائی کے استاد محمد بن رافع بھی ان الفاظ کو بیان کرتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت