فهرس الكتاب

الصفحة 3662 من 5761

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

وصیت ایک تہائی مال میں ہوسکتی ہے

3662 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ لَا قَالَ فَالشَّطْرَ قَالَ لَا قَالَ فَالثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ تشریف لائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں؟ آپ نے فرمایا: ''نہیں۔'' میں نے کہا: نصف؟ آپ نے فرمایا: ''نہیں۔'' میں نے کہا: تہائی؟ آپ نے فرمایا: ''تہائی! تہائی بھی بہت ہے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت