فهرس الكتاب

الصفحة 3676 من 5761

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

جب میت اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کردے(تو مراد کون لوںگ ہوں گے؟)

3676 أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} ''اور ( اے پیغمبر!) اپنے قریبی رشتہ داروں (عذاب الٰہی) سے ڈرائیے۔'' تو آپ نے فرمایا: ''اے جماعت قریش! اپنے آپ کو (توحید کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے چھڑالو۔ میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! میں تیرے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ اے رسول اللہﷺ کی پھوپھی صفیہ! میں تجھے بھی اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے محمد کی بیٹی فاطمہ! (دنیا میں) مجھ سے جو چاہے مانگ لے مگر اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے میں تجھے کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکوں گا۔''

فائدہ نہ دے سکوں گا''یعنی اگر تم مسلمان نہ ہوئے'نیز اپنے اختیار سے تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکوں گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت