فهرس الكتاب

الصفحة 3720 من 5761

کتاب: ہبہ سے متعلق احکام و مسائل

باپ کا اپنے بیٹے کو عطیہ دے کر واپس لینے کا بیان اور اس مسئلے میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر

3720 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعَانِ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُعْطِي عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عمراور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''جو شخص کسی کو عطیہ دے تو پھر اس کے لیے جائز نہیں کہ اسے واپس لے مگر والد اپنی اولاد کو جو عطیہ دے' اسے واپس لے سکتا ہے۔ اور جو شخص تحفہ دے کر واپس لیتا وہ' وہ کتے کی طرح ہے جو کھاتا ہے حتیٰـ کہ جب ضرورت سے زیادہ سیر ہوجاتا ہے تو قے کرتا ہے' پھر اپنی قے کو چاٹنے لگتا ہے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت