فهرس الكتاب

الصفحة 3885 من 5761

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل

جس شخص نے کوئی نذر اپنے آپ پر واجب کرلی لیکن وہ اسے پورا کرنے سے عاجز ہے تو اس پر کیا واجب ہوگا؟

3885 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذَا فَقِيلَ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کا گزر ایسے شخص پر سے ہوا جسے اس کے دو بیٹے پکڑ کر سہارے سے چلا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ''اسے کیا ہوا؟'' کہا گیا: اس نے کعبہ تک پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں کہ یہ اپنے آپ کو عذاب میں ڈالے۔'' چنانچہ آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔

''حکم دیا'' کیونکہ وہ چلنے سے عاجز تھا۔ جو چل سکے' وہ چلے عاجز ہوجائے تو سوار ہوجائے اور کفارہ دے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت