389 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو باوجود حیض کی حالت کے کنگھی کر دیا کرتی تھی۔
(۱) باب سر دھونے کا ہے، مگر اس حدیث میں کنگھی کا ذکر ہے اور بس، مکر اس میں کوئی اشکال نہیں کیونکہ عمومًا سر دھونے کے بعد ہی کنگھی کی جاتی ہے۔ (۲) باب کا مقصد یہ ہے کہ حائضہ عورت کے ہاتھ، بلکہ سارا جسم (سوائے نجاست کی جگہ کے) ظاہرًا پاک ہوتا ہے۔ گیلا ہو یا خشک۔ پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پانی پلید ہوتا ہے نہ ہاتھ۔ وہ گیلا ہاتھ یا جسم کسی سے الگ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔