فهرس الكتاب
3938 قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو خُزَيْمَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَرِيفٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَسُئِلَ رَافِعٌ بَعْدَ ذَلِكَ كَيْفَ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ قَالَ بِشَيْءٍ مِنْ الطَّعَامِ مُسَمًّى وَيُشْتَرَطُ أَنَّ لَنَا مَا تُنْبِتُ مَاذِيَانَاتُ الْأَرْضِ وَأَقْبَالُ الْجَدَاوِلِ رَوَاهُ نَافِعٌ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ
حضرت ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ ابن شہاب (امام زہری) نے کہا کہ اس کے عبد حضرت رافع سے پوچھا گیا کہ اس دور میں لوگ زمین کرائے پر کیسے دیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: یا تو معین غلے کے عوض' یا یہ شرط لگاتے تھے کہ فصل پانی کے نلوں کے ساتھ ساتھ یا پانی کے موہگے کے سامنے سامنے اگے گی' وہ ہماری ہوگی۔
یہ روایت نافع نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے اور اس حدیث میں نافع پر اختلاف کیا گیا ہے۔
(۱) ''اختلاف کیا گیاہے۔'' وہ اختلاف۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ حضرت نافع کے کئی شاگردوں نے اس سے یہ روایت بیان کی' مثلًا: موسیٰ بن عقبہ' ابن عون' ایوب' کثیر بن فرقد' عبیداللہ بن عمر اور جویریہ بن اسماء وغیرہ۔ لیکن ان تمام شاگردوں میں سے کوئی تو اپنے استاد حضرت نافع سے یہی روایت بیان کرتے ہوئے ''عمومتہ'' کے الفاظ بیان کرتاہے' اور کوئی ''بعض عمومتہ'' کے' جب کہ کوئی ان الفاظ کے بغیر ہی یہ روایت بیان کرتا ہے۔ (۲) یہ صورتیں تو قطعًا منع ہیں کیونکہ ایسی شرائط صریح ظلم ہیں اور ان میں مزارع کا واضح طور پر نقصان ہے جسے شریعت جائز قرار نہیں دے سکتی تھی' البتہ زمین عام بٹائی پر دینا جائز ہے۔