فهرس الكتاب
3954 أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَافِعٍ أَتُؤَاجِرُونَ مَحَاقِلَكُمْ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الْأَوْسَاقِ مِنْ الشَّعِيرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَعِيرُوهَا أَوْ امْسِكُوهَا خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ فَقَالَ عَنْ رَافِعٍ عَنْ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے پوچھا: ''کیا تم اپنی فالتو زمینیں بٹائی پر دتے ہو؟'' میں نے عرض کیا: جی ہاں' اے اللہ کے رسول! ہم انہیں پیداوار کے چوتھائی حصے یا چندوسق جو کے عوض بٹائی پر دیتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''ایسے نہ کرو' خود کاشت کرو یا کسی کو ایک دوسال کے لیے (عارتیًا) بلامعاوضہ کاشت کے لیے دے دو' ورنہ رکھے رکھو۔''
اوزاعی نے اس (یحییٰ بن ابوکثیر) کی مخالفت کی ہے۔ اور اس نے کہا ہے: عن رافع عن ظہیر بن رافع۔
''مخالفت کی ہے۔'' یہ مخالفت مسند بنانے میں ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں بیان ہوا ہے۔ دیکھیے' حدیث: ۳۹۵۳ کا فائدہ: