فهرس الكتاب

الصفحة 3965 من 5761

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل

مزارعت(بٹائی)کے بارے میں منقول الفاظ کے اختلاف کا بیان

3965 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ مَعْمَرًا عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ قَالَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ خَيْرَ مَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ أَنْ يُؤَاجِرَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بہترین طریق کار یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی (زائد) زمین سونے چاندی (رقم) کے عوض ٹھیکے پر دے دے۔

پیچھے گزرچکا ہے کہ غریب آدمی کے لیے ٹھیکے کی بجائے بٹائی پر زمین لینا زیادہ مفید ہے' اگرچہ زمین دینے والے کے لیے ٹھیکہ مفید رہتا ہے۔ اور شریعت غریبوں کی حامی ہے۔ (دیکھیے' حدیث:۳۹۲۱)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت