فهرس الكتاب
ناحق خون بہانا حرام ہے
3979 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ، إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ خَالَفَهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ
سعبد بن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں سے لڑوں حتیٰ کہ وہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ جو شخص یہ کلمہ پڑھ لے، اس نے مجھ سے اپنی جان و مال کو محفوظ کر لیا الا یہ کہ اس پر (اسلام کا) کوئی حق ہو، اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔''
ولید بن مسلم نے اس (عثمان) کی مخالفت کی ہے۔
ولید بن مسلم نے اسے مسند عمر بنایا ہے۔ جبکہ عثمان بن سعید نے جس اسی سند سے بیان کیا ہے تو انہوں نے اسے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مسند بنایا ہے۔