فهرس الكتاب

الصفحة 3990 من 5761

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان

ناحق خون بہانا حرام ہے

3990 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، وَذَلِكَ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''جو بھی شخص ناحق مارا جاتا ہے اس کے قتل کا بوجھ حضرت آدم کے بیٹے، (قابیل) جو سب سے پہلا قاتل تھا، پر بھی ہو گا کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کو جاری کیا تھا۔''

قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو ناحق قتل کر دیا تھا اور یہ دنیا میں پہلا قتل تھا۔ اس سے پہلے یہ کام نہیں ہوا تھا۔ گویا قتل کا تعارف قابیل کی بدولت ہوا۔ اب ہر قاتل اس کا پروکار ہے، لہٰذا اس کا حصہ ہر قتل میں ہوتا ہے۔ لازمًا گناہ میں بھی اسے حصہ ملے گا اگرچہ اس سے قاتل کے گناہ میں کوئی کمی نہ آئے گی کیونکہ اسے گناہ اور سزا فعل قتل کی ہے اور قابیل کو قتل کے رواج کی۔ دونوں الگ الگ جرم ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت