فهرس الكتاب

الصفحة 4022 من 5761

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان

کن جرائم کی وجہ سے مسلمان کا خون بہانا جائز ہے ؟

4022 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوِ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ» وَقَفَهُ زُهَيْرٌ،

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''کسی مسلمان شخص کا خون بہانا جائز نہیں مگر (تین آدمیوں کا:) وہ آدمی جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا اور وہ شخص جس نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا یا قاتل کو قصاصا میں مارا جائے گا۔''

اس روایت کو زہیر نے موقوف بیان کیا ہے۔

غلام اگر زنا کرے، اگرچہ وہ شادی شدہ بھی ہو، اسے رجم نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس پر نصف حد ہے۔ اور وہ ہے پچاس کوڑے، رجم نصف نہیں ہو سکتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت