اللہ تعالیٰ کے فرمان: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِینَمِنَ الْأَرْضِ} کی تفسیر اور (اس کا بیان کہ ) ....الفاظ کا ذکر
4032 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ، فَأَمَرَ لَهُمْ - وَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ - بِذَوْدٍ أَوْ لِقَاحٍ يَشْرَبُونَ أَلْبَانَهَا وَأَبْوَالَهَا، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ»
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل یا عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی تو آپ نے ان کو اپنے اونٹوں میں جانے کا حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پئیں۔ انہوں نے (صحت مند ہونے کے بعد) چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ آپ نے ان کی تلاش میں اپنے آدمی بھیجے، پھر آپ نے ان کے ہاتھ پائوں سختی کے ساتھ کاٹ دئیے اور ان کی آنکھیں (گرم سلائیوں سے) بری طرح پھوڑ دیں۔