4046 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ»
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ روایت رسول اللہﷺ سے نقل فرمائی ہے۔ اس میں یہ لفظ بھی ہیں کہ ان کے بارے میں محاربہ والی آیت اتری۔
(۱) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن یہ روایت شواہد کی بنا پر حسن بن جاتی ہے جیسا کہ محقق کتاب نے بھی شواہد کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک روایت کا حوالہ دیا ہے اور اس پر سندًا حسن ہونے کا حکم لگایا ہے، نیز دیگر محققین نے بھی اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔ دیکھئے: (صحیح سنن النسائی للالبانی، رقم: ۴۰۵۲، و ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائی: ۳۱/۳۵۳، ۳۵۴) (۲) محاربہ والی آیت سے مراد وہی آیت ہے جو ان احادیث سے پہلے ذکر کی گئی ہے، یعنی: {اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ} مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اس سزا کا ذکر ہے جو عرینہ کے لوگوں کو دی گئی۔