( مسلمانوں کا ) غلام مشرکوں کے علاقے میں بھاگ جائے تو ؟ الفاظ کے اختلاف کا ذکر
4055 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ جَرِيرٌ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ، وَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا، وَأَبَقَ غُلَامٌ لِجَرِيرٍ فَأَخَذَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ
حضرت جریر رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی اکرمﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ (آپ نے فرمای:) ''جب کوئی غلام اپنے مالک سے بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ اگر وہ مر جائے تو کفر کی حالت میں مرے گا۔'' حضرت جریر کا ایک غلام بھاگ گیا تھا۔ وہ ان کی گرفت میں آیا زتو انہوں نے اس کی گردن اتار دی۔
یہاں ایک خاص صورت کا ذکر ہے کہ جب غلام بھاگ کر کفار کے پاس چلا جائے جیسا کہ باب کے عنوان سے معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ یا تو مرتد ہو گا یا کم از کم باغی۔ پہلی صورت میں وہ وجوبًا اور دوسری صورت میں جوزًا قتل کیا جائے گا۔ چاہے وہ علانیہ مرتد نہ ہی ہوا ہو۔ آئندہ احادیث کا مقصود یہی ہے۔