فهرس الكتاب

الصفحة 4079 من 5761

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان

اس حدیث میں اعمش پر( اس کے شاگردوں کے )اختلاف کا بیان

4079 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: تَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: لَوْ أَمَرْتَنِي لَفَعَلْتُ؟ قَالَ: «أَمَا وَاللَّهِ مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کسی آدمی پر بہت ناراض ہوئے۔ میں نے کہا: اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں کر گزروں (اسے قتل کر دوں) ۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت محمدﷺ کے بعد کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں۔

''یہ حق حاصل نہیں'' کہ اس کے کہنے سے کسی کو قتل کر دیا جائے، بغیر تحقیق کے کہ وہ قتل کا مستحق ہے یا نہیں۔ یہ صرف رسول اللہﷺ کی شان ہے کہ آپ جو بھی فرمائیں، اس پر بلاتحقیق عمل کیا جائے گا۔ دوسرے ہر شخص کی بات کی تحقیق کی جائے گی۔ صحیح ہو تو عمل کی جائے گا ورنہ چھوڑ دیا جائے گا، خواہ وہ خلیفہ اور حاکم ہو یا کوئی کمانڈر۔ دوسرے معنی پیچھے گزر چکے ہیں کہ صرف رسول اللہﷺ کو گالی دینے کی سزا قتل ہے، کسی اور کا یہ مرتبہ نہیں، خواہ وہ صحابی ہی ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت