فهرس الكتاب

الصفحة 4147 من 5761

کتاب: مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل

مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل

4147 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى} [الأنفال: 41] قَالَ: خُمُسُ اللَّهِ وَخُمُسُ رَسُولِهِ وَاحِدٌ، «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ مِنْهُ، وَيُعْطِي مِنْهُ، وَيَضَعُهُ حَيْثُ شَاءَ، وَيَصْنَعُ بِهِ مَا شَاءَ»

حضرت عطاء سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: {وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ…الآیۃ} ''تم جان لو کہ جو بھی تم غنیمت حاصل کرو، اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ) اور رشتے داروں کے لیے ہے۔'' کے بارے میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا حصہ ایک ہی ہے۔ رسول اللہﷺ اس حصے میں سے (مفلس اور تنگ دست لوگوں کو جہاد کے لیے) سواریاں مہیا کرتے اور اس میں سے ضرورت مندوں اور محتاجوں کو دیتے۔ جہاں چاہتے خرچ فرماتے اور اس سے جو چاہتے کرتے۔

فائدہ: ''ایک ہی ہے'' مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر تو بطور تبرک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی الگ حصہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ خمس میں کلیتًا بااختیار تھے۔ بعض کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حصہ بیت اللہ پر خرچ کیا جائے۔ اس حدیث کو یہاں ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ خمس مکمل طور پر رسول اللہﷺ کی صوابدید کے سپرد تھا۔ اس میں کسی کا حصہ مقرر نہیں تھا۔ آپ کی وفات کے بعد یہی اختیار حاکم وقت کو تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت