فهرس الكتاب

الصفحة 4150 من 5761

کتاب: مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل

مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل

4150 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: سُئِلَ الشَّعْبِيُّ، عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيِّهِ، فَقَالَ: «أَمَّا سَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَسَهْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا سَهْمُ الصَّفِيِّ فَغُرَّةٌ تُخْتَارُ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ شَاءَ»

حضرت مطرف سے منقول ہے کہ حضرت شعبی سے نبیٔ اکرمﷺ کے حصے اور آپ کے صَفِیّ (خاص حصے) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: نبیﷺ کا (عام) حصہ تو ایک عام مسلمان آدمی کے حصے کے برابر تھا، البتہ صفی (خصوصی حصے) کے بارے میں آپ کو اختیار تھا کہ جو بھی پسندیدہ اور نفیس چیز آپ پسند فرماتے، لے سکتے تھے۔

فوائد و مسائل: (۱) ''صفی'' اس خصوصی حصے کو کہا جاتا ہے جو امام و رئیس مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اپنی ذات کے لیے چن لے، مثلًا: لونڈی، غلام، اونٹ اور گھوڑا وغیرہ۔ (۲) گویا آپ کو خمس میں مکمل اختیار تھا۔ آپ کسی بھی چیز کو اپنے لیی خصوصی طور پر پسند فرما سکتے تھے جیسے آپ نے خیبر کے قیدیوں سے حضرت صفیہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کو پسند فرمایا اور ان کو آزاد فرما کر ان سے نکاح فرما لیا۔ (۳) دلائل کی رو سے مذکورہ روایت مرسل صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت