4174 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا مُهَاجِرٌ، قَالَ: «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا»
حضرت صفوان بن امیہؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اﷲ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ مہاجرین کے علاوہ کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا۔آپ نے فرمایا: ''فتح مکہ کے بعد (مکہ سے) ہجرت (کی کوئی ضرورت) نہیں رہی لیکن جہاد کرو اور نیت رکھو (اگر کبھی ہجرت کرنا پڑی تو کریں گے ) اور جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکلو ۔ ''
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اب مستقلاََ گھر بار چھوڑنے کی ضرورت نہیں' البتہ جہاد اور دوسرے نیک کاموں کے لیے وقتی طور پر گھروں سے نکلو۔