فهرس الكتاب

الصفحة 4174 من 5761

کتاب: بیعت سے متعلق احکام و مسائل

باب : انقطاع ہجرت کی بابت اختلاف کا ذکر

4174 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا مُهَاجِرٌ، قَالَ: «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا»

حضرت صفوان بن امیہؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اﷲ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ مہاجرین کے علاوہ کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا۔آپ نے فرمایا: ''فتح مکہ کے بعد (مکہ سے) ہجرت (کی کوئی ضرورت) نہیں رہی لیکن جہاد کرو اور نیت رکھو (اگر کبھی ہجرت کرنا پڑی تو کریں گے ) اور جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکلو ۔ ''

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اب مستقلاََ گھر بار چھوڑنے کی ضرورت نہیں' البتہ جہاد اور دوسرے نیک کاموں کے لیے وقتی طور پر گھروں سے نکلو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت