فهرس الكتاب
4266 أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمِ بْنِ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي الْخَطَّابُ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِثُ بْنُ عَجْلَانَ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِعَنْزٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: «مَا كَانَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الشَّاةِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا»
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے۔ آپ نے فرمایا: ''اگر اس بکری کے مالک اس کے چمڑے سے فائدہ اٹھا لیتے تو کیا حرج تھا؟''
اس حدیث کا متعلقہ باب سے تو کوئی تعلق نہیں، البتہ گزشتہ ابواب سے تعلق ہے۔ ممکن ہے قریبی باب ضمنی ہو۔ اصل باب سابقہ ہی ہو۔ قریبی باب جملہ معترضہ کی طرح ہو گا۔ و اللہ اعلم۔