فهرس الكتاب

الصفحة 4290 من 5761

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

جانوروں( کی حفاظت)کے لیے کتا رکھنے کی رخصت

4290 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ السَّعْدِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ خُصَيْفَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَائِيُّ وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا، وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ» قُلْتُ: يَا سُفْيَانُ، أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ

حضرت سائب بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سفیان بن ابوز ہیر شنائی رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے اور فرمانے لگے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:''جس نے ایسا کتا رکھا جو نہ کھیتی کی حفاظت کرتا ہو اور نہ جانوروں کی (اور نہ وہ شکاری ہو) تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط ثواب کم کیا جائے گا۔'' میں نے کہا: اے سفیان! کیا آپ نے یہ فرمان رسول اللہﷺ سے سنا ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں' اس مسجد کے رب کی قسم!

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت