فهرس الكتاب

الصفحة 4304 من 5761

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

کوئی شخص شکار پر تیر چلائے اور وہ پانی میں گر جائے تو ؟

4304 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ، فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ سَهْمَكَ وَكَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ سَهْمُكَ فَكُلْ» قَالَ: فَإِنْ بَاتَ عَنِّي لَيْلَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنْ وَجَدْتَ سَهْمَكَ، وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ شَيْءٍ غَيْرَهُ فَكُلْ، وَإِنْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ»

حضرت عد بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:'' جب تو بسم اللہ پڑھ کر اپنا تیر چلائے یا کتا چھوڑے اور تیرا تیر (شکار کو) قتل کر دے تو تو شکار کھا سکتا ہے۔'' میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ شکار مجھ سے ایک رات تک غائب رہا تو؟ آپ نے فرمایا:'' اگر تو اس جانور میں اپنا تیر پالے اور اس کے علاوہ کسی اور زخم کا نشان نہ ہو تو اسے کھا سکتا ہے، البتہ اگر وہ پانی میں گر گیا (اور مرگیا) ہو تو اسے مت کھا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت